
ایان ملک – ایک جستجو کرنے والا لکھاری جو قدیم اور پراسرار مقامات کی کہانیاں تلاش کرتا ہے۔
نور فاطمہ – ایک پراسرار لڑکی جس کا تعلق صدیوں پرانے صوفی مزار سے ہے۔
بابا کریم شاہ – ایک عظیم صوفی بزرگ جن کی روحانی طاقت اب بھی مزار کی حفاظت کرتی ہے۔
ظفر قادری – ایک لالچی مورخ جو مزار کے نیچے چھپے خزانے کی تلاش میں ہے۔
سایہ روح – ایک خطرناک روح جسے صدیوں پہلے بابا کریم شاہ نے قید کیا تھا۔
ایک سرد شام ایان ملک ایک سنسان گاؤں میں پہنچا جو دھند اور خاموش درختوں سے گھرا ہوا تھا۔
گاؤں کے بیچ میں بابا کریم شاہ کا قدیم صوفی مزار کھڑا تھا۔
لوگ کہتے تھے کہ وہاں عجیب واقعات ہوتے ہیں:
رات کو سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں
مزار کے پاس سایے حرکت کرتے ہیں
ایک پراسرار لڑکی وہاں دعا کرتی نظر آتی ہے
جب ایان مزار کے قریب پہنچا تو ہوا میں صوفی شاعری کی مدھم آواز سنائی دی۔
وہاں ایک سفید لباس والی لڑکی کھڑی تھی۔
اس کا نام نور فاطمہ تھا۔
ایان روز مزار پر آنے لگا۔
نور اسے صوفی ازم، محبت اور روحانیت کے بارے میں بتاتی تھی۔
اس کی باتوں نے ایان کے دل کو چھو لیا۔
دونوں کے درمیان دوستی ہوئی اور آہستہ آہستہ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔
ایک طوفانی رات مزار کے دروازے اچانک بند ہو گئے۔
دیواروں پر ایک سیاہ سایہ حرکت کرنے لگا۔
نور نے ایان کو سچ بتایا۔
صدیوں پہلے بابا کریم شاہ نے ایک شیطانی روح کو مزار کے نیچے قید کیا تھا۔
مگر اب کوئی اس قید کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ شخص ظفر قادری تھا جو خزانے کی تلاش میں تھا۔
ظفر نے مزار کے نیچے پرانے پتھر توڑ دیے۔
زمین کانپنے لگی۔
ایک تاریک روح باہر نکل آئی۔
گاؤں میں خوفناک چیخیں گونجنے لگیں۔
ایان اور نور نے بابا کریم شاہ کی لکھی ہوئی ایک قدیم کتاب نکالی جس میں صوفی دعائیں لکھی تھیں۔
نور نے وہ دعائیں پڑھنا شروع کر دیں۔
مزار روحانی روشنی سے بھر گیا۔
اسی دوران نور نے ایان کو بتایا کہ وہ عام انسان نہیں ہے۔
وہ ایک روحانی محافظ ہے جسے صدیوں پہلے مزار کی حفاظت کے لیے چنا گیا تھا۔
ایان کو سمجھ آ گیا کہ ان کی محبت عام زندگی میں ممکن نہیں۔
پھر بھی اس نے نور کی مدد کی۔
آخرکار وہ روح دوبارہ قید ہو گئی۔
صبح کی روشنی مزار میں داخل ہوئی۔
ہر طرف سکون تھا۔
لیکن نور آہستہ آہستہ غائب ہونے لگی۔
جانے سے پہلے اس نے کہا:
“سچی محبت سب سے بڑی روحانیت ہے۔”
ایان شہر واپس چلا گیا اور اس پراسرار مزار اور اپنی محبت پر ایک کتاب لکھ دی۔
لیکن آج بھی کبھی کبھی رات کو اسے ہوا میں صوفی شاعری کی آواز سنائی دیتی ہے۔
0 Comments