
علی (بہادر اور سنجیدہ لڑکا)
عائشہ (پراعتماد مگر حساس لڑکی)
کامران (منفی کردار)
پولیس افسر
چند طلبہ
(ہلکی روشنی۔ طلبہ آہستہ آہستہ جا رہے ہیں۔ عائشہ اکیلی کھڑی موبائل دیکھ رہی ہے۔)
کامران (مسکراتے ہوئے آگے آتا ہے):
ارے عائشہ، اتنی جلدی کیا ہے؟ ذرا بات تو سن لو۔
عائشہ (سخت لہجہ):
راستہ چھوڑ دو، مجھے گھر جانا ہے۔
کامران (راستہ روکتے ہوئے):
اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ ہم بھی تو تمہارے دوست ہیں۔
(عائشہ پریشان ہو کر ادھر اُدھر دیکھتی ہے۔)
(علی دور سے آتا ہے، صورتحال دیکھ کر رک جاتا ہے۔)
علی (غصے میں):
اسے تنگ کرنا بند کرو، کامران۔
کامران (چیلنجنگ انداز میں):
تم کون ہوتے ہو بیچ میں آنے والے؟
علی:
جو غلط دیکھے گا، وہ بولے گا۔
(کامران علی کو دھکا دیتا ہے۔)
(تیز میوزک۔ دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔ طلبہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔)
عائشہ (چیختے ہوئے):
بس کرو! کوئی پولیس کو بلاؤ!
(کامران مکا چلاتا ہے، علی بچ کر اسے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ دونوں زمین پر گرتے ہیں۔)
(سائرن کی آواز۔ پولیس افسر داخل ہوتا ہے۔)
پولیس افسر:
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟
طالب علم:
سر، یہ لڑکا عائشہ کو تنگ کر رہا تھا۔
پولیس افسر (کامران سے):
آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔
(کامران کو لے جایا جاتا ہے۔ خاموشی چھا جاتی ہے۔)
(روشنی نرم ہو جاتی ہے۔ علی اور عائشہ آمنے سامنے کھڑے ہیں۔)
عائشہ (آنسوؤں کے ساتھ):
تم نے میرے لیے خود کو خطرے میں ڈال دیا۔
علی (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ):
کسی کی عزت کی حفاظت کرنا خطرہ نہیں، ذمہ داری ہے۔
(چند لمحوں کی خاموشی)
عائشہ:
شاید آج مجھے ایک سچا دوست مل گیا۔
علی:
اور شاید مجھے بھی۔
(دونوں آہستہ آہستہ اسٹیج سے باہر جاتے ہیں۔)
(ہلکی موسیقی۔ اسکرین پر الفاظ آتے ہیں:)
"ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہی اصل بہادری ہے۔"
اگر آپ چاہیں تو میں:
اس میں مزید ایکشن سین شامل کر دوں
کامران کی واپسی کا سیکوئل بنا دوں
یا اسے فلمی انداز میں ڈائیلاگ مزید طاقتور بنا دوں
آپ کو کس انداز میں مزید چاہیے؟ 🎬
0 Comments