Editors Choice

Comments

3-comments

FOLLOW ME

LATEST

3-latest-65px

Archive

Latest video-course

1-tag:Videos-800px-video

Campus

4-tag:Campus-500px-mosaic

About

This just a demo text widget, you can use it to create an about text, for example.

Testimonials

3-tag:Testimonials-250px-testimonial

Header Background

Header Background
Header Background Image. Ideal width 1600px with.

Section Background

Section Background
Background image. Ideal width 1600px with.

Section Background

Section Background
Background image. Ideal width 1600px with.

Ads block

Banner 728x90px

Courses

6-latest-350px-course

Section Background

Section Background

Search This Blog

SEARCH

🌙 چاند کی آخری سرگوشی


🌙 عنوان: چاند کی آخری سرگوشی



 سن 2095 تھا۔

دنیا بدل چکی تھی۔ شہر ہوا میں تیرتے تھے اور انسانوں کے جذبات کو کنٹرول کرنے کے لیے "ایموشن چِپ" ایجاد ہو چکی تھی۔

عائشہ ایک سائنسدان تھی۔ وہ جذبات پر یقین رکھتی تھی، اس لیے اس نے اپنے دماغ میں چِپ لگوانے سے انکار کر دیا تھا۔
ایک رات، جب نیون لائٹس سے چمکتا شہر سو رہا تھا، اسے اپنے لیبارٹری میں ایک عجیب سگنل ملا۔

سگنل چاند سے آ رہا تھا۔

اس نے اس سگنل کو ڈیکوڈ کیا۔
وہ ایک آواز تھی… ایک مرد کی آواز:

"اگر تم مجھے سن سکتی ہو، تو جان لو… میں تمہیں جانتا ہوں۔"

عائشہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ خوفزدہ بھی تھی اور عجیب سا کھچاؤ بھی محسوس کر رہی تھی۔

چند دن بعد، اس کے لیبارٹری میں ایک پورٹل کھل گیا۔ نیلی روشنی میں لپٹا ایک نوجوان باہر آیا۔ اس کی آنکھوں میں کہکشاؤں جیسی چمک تھی۔

"میرا نام زین ہے۔ میں سال 2150 سے آیا ہوں۔"




زین نے بتایا کہ مستقبل میں زمین تباہ ہو چکی ہے۔ انسانوں نے اپنے جذبات ختم کر دیے، اور اسی وجہ سے محبت مر گئی۔
لیکن عائشہ… وہ آخری انسان تھی جس کے دل میں خالص محبت باقی تھی۔

اسی محبت کی توانائی نے وقت کے پردے میں دراڑ ڈال دی۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

ہر رات، جب وہ زین کے ساتھ وقت گزارتی، دیواروں پر سائے حرکت کرتے۔ آئینے میں کبھی کبھی عائشہ کو اپنا عکس نظر نہیں آتا تھا۔

زین نے سچ بتایا۔

وہ مکمل انسان نہیں تھا۔ وہ "پروجیکٹ ایکو" کا حصہ تھا — ایک مصنوعی وجود، جسے صرف محبت کو محسوس کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
لیکن اس کی موجودگی وقت کو توڑ رہی تھی۔ ہر لمحہ زمین تباہی کے قریب جا رہی تھی۔

ایک رات، شہر کے اوپر آسمان سرخ ہو گیا۔
پورٹل دوبارہ کھل گیا۔

"اگر میں واپس نہ گیا، تو تم مر جاؤ گی،" زین نے کہا۔

عائشہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
"اگر تم چلے گئے، تو میں زندہ رہ کر بھی مر جاؤں گی۔"

زین نے اس کے ماتھے کو چھوا۔
وقت رک گیا۔

اچانک، لیبارٹری میں زلزلہ آیا۔ سائے چیخنے لگے۔
عائشہ نے فیصلہ کر لیا۔

اس نے خود پورٹل میں قدم رکھ دیا۔

چمکتی روشنی میں، وہ دونوں غائب ہو گئے۔

صبح، شہر معمول پر تھا۔
لیبارٹری خالی تھی۔

لیکن چاند پر… دو سائے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے۔

اور زمین پر پہلی بار، ایموشن چپس ناکارہ ہو گئیں۔

محبت واپس آ گئی تھی۔

 

Post a Comment

0 Comments