سمیتھا کی کہا نی

یک دن، ایک خوبصورت محلل سمیتھا ایک دنیا کے شہر میں رہتی تھی۔ اسے ایک خواب میں ایک پرانے ہوٹل کے بارے میں خواب آیا جو کچھ دیرہ پرانا تھا اور اس وقت پوری طرح سے بند ہو چکا تھا۔ اس خواب میں، وہ ہوٹل بہت خوبصورت تھا، اور اس محبت کے احساس سے بھرا ہوا تھا۔

 


صبح ہوتے ہی، سمیتھا نے اس خواب کو اپنے دوستوں کو بتانا شروع کیا۔ وہ اپنے دوستوں کو بتاتی کہ کیسے وہ خواب میں اس ہوٹل کو دیکھ رہی تھی اور اس کی ہر تفصیل کو ذوق سے بیان کر رہی تھی۔ اس خواب کی خوشی اور خوشی کے بارے میں بات کرنے سے، اس کے دوست بھی خوشی سے بھر گئے اور انہوں نے سمیتھا کی تعریف کی۔

 

دن بت دن گزرتے گیا اور سمیتھا کے خواب کی بات زیادہ دوستوں تک پہنچ گئی۔ لوگ اس خواب کے پیچھے اس طرح پڑھ گئے کہ کچھ لوگ سمیتھا کو پاگل سمجھنے لگے۔ مگر سمیتھا کو اس بات کا خود یقین تھا کہ یہ خواب کچھ خاص ہے اور یہ اس کے لئے کچھ خاص آیا ہے۔

 

اگلے ہفتے، ایک دن، سمیتھا کے دوست نے ایک پرانے شہر کی سیر پر جانے کا انتصاب کیا۔ وہ لوگ اس خواب کے بارے میں انہیں سنا کر خوش تھے اور انہوں نے سمیتھا کو بھی اس سیر میں شامل کر دیا۔

 

جب وہ دوست اور سمیتھا اس پرانے شہر کے قدیم ہوٹل کے قریب پہنچے، سمیتھا کی دھڑکتے دل کو چمک کی روشنی نظر آئی۔ وہ ہوٹل ایک دنیا کی خوبصورت تصویر تھا جو اب بھی ان کے خوابوں میں ہوتا تھا۔

 


دوست نے خوشی سے کہا، "یہ ہے وہ پرانا ہوٹل جو تمہارے خوابوں میں آتا ہے؟"

 

سمیتھا نے مسکرا کر جواب دیا، "ہاں، یہی وہ ہوٹل ہے جو میں ہر رات خواب میں دیکھتی ہوں۔"

 

دوست مسرور ہوگئے اور سمیتھا کے خواب کی حقیقت پر یقین کر لیا۔ ان کے دل میں ایک نیکی اور محبت کا احساس پیدا ہوا کے وہ خواب واقعیٰ میں خاص تھا۔ اب وہ لوگ ہر محنت کرتے تھے کہ اس پرانے ہوٹل کو اباد کریں اور اس کے رونق کو واپس لا سکیں۔

 

اس محبت کے احساس نے سمیتھا کی زندگی کو بدل دیا۔ وہ اب خود بھی اس ہوٹل کو قدر دینے لگی اور لوگوں کو محبت اور خوابوں کی اہمیت کے بارے میں سکھاتی رہی۔ اس کے خواب نے اس کیزندگی میں مزید رنگ بھر دیے۔ سمیتھا نے اس پرانے ہوٹل کی تصویر کو حقیقت بنانے کے لئے کئی محنتی محبت کاروں کو جمع کیا۔ وہ لوگ جو اس خواب کے پیچھے پاگل مانے جاتے تھے، انہیں اب اپنے معنی پرست اور خواب دیکھنے والے فرد مانا جانے لگے۔

 

سمیتھا اور اس کے ٹیم کی کوششوں کا نتیجہ، اس پرانے ہوٹل کو واپس زندہ کرنے کا مرحلہ آن پہنچا۔ وہ ہوٹل، جو پہلے مکمل طور پر بند ہوا ہوتا تھا، اب دوبارہ روشن ہو گیا تھا۔ اس ہوٹل کو ترتیب دیا گیا، اس کی تصویر کو بہتر بنایا گیا اور اب یہ دوبارہ لوگوں کے لئے خوش آئندی کی ایک نئی جگہ بن گیا۔

 

سمیتھا اور اس کے ٹیم کو مل کر اس ہوٹل کے کامیابی کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منائی گئی۔ اس تقریب میں شہر کے اہم شخصیات شرکت کرتیں تھیں اور اس خواب کی کہانی سننے کے لئے تیار تھیں۔

 

سمیتھا نے اپنے دل کی باتیں کی اور بتایا کہ کیسے اس خواب نے اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی۔ اس نے بتایا کہ اس خواب کی وجہ سے اس کے دل میں محبت اور امید کی روشنی جگمگا رہی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی پیروی کرنے اور ان کو حقیقت بنانے کی اہمیت کو سمجھاتی رہی۔

 

اس تقریب کے دوران، ایک جوان شخص نے سمیتھا کے خواب کے بارے میں ایک سوال کیا۔ وہ پوچھا، "آپ نے اس خواب کی پیروی کی کیا خاصیت ہے جو اسے حقیقت بناتی ہے؟"

 

سمیتھا نے مسکرا کر جواب دیا، "محبت اور یقین۔ محبت نے مجھے اس خواب کے لئے مستحکم کیا اور یقین کے بغیر، خوابوں کی تکمیل ممکن نہیں۔ میری محبت اور یقین نے اس خواب کو ایک ریاستی ہوٹل میں تبدیل کیا۔"

 

اس کے جواب سے، تقریب میں موجود سب لوگ مسرور ہوگئے۔ سمیتھا کی کہانی انہیں ایک نئی روشنی اور امید کی کرن نظر آئی۔

 

اس محبت کے احساس نے سمیتھا کی زندگی کو معنی پُر خوشیوں سے بھر دیا۔ اب وہ محبت اور امید کے ساتھ اس ہوٹل کو اپنے خوابوں کے رنگوں میں سجا رہتی تھی۔ اس کی کہانی لوگوں کو ایک سبق اور انسپریشن دینے لگی، کہ ہمارے خوابوں کو ہمیشہ ایمانداری سے پیروی کرنا چاہئے اور محبت کی قوت کے ساتھ ان کو حقیقت بنانا چاہئے۔

 

 

 

Post a Comment

0 Comments